نیوورلڈ آرڈر میں ورلڈ فوڈ آرڈر بھی شامل کیا جائے

اسد حسن، واشنگٹن

اسد حسن

ابھی تک اس بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ کس جانور یا پرندے سے کورونا وائرس انسان میں منتقل ہوا ہے لیکن زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ چمگادڑ سے انسان میں آیا ہے۔ کسی کے خیال میں شیر اور چیتے سے بھی ممکن ہے۔ کچھ کا اشارہ سانپوں کی جانب ہے۔

کچھ نے پاکسان سے ملنے والے جانور کا حوالہ دیا ہے۔ انہی میں سے اگر کوئی جاندار وجہ بنا ہے تو محض اس کے چھونے یا اس کے انسان کے قریب ہونے سے ایسا نہیں ہوا۔ ماہرین کی نظریں اس جانب ہیں کہ آیا ویٹ مارکیٹس میں ان جانوروں کی دستیابی، ان کے گوشت کی فراہمی اور ان کا کچا پکا کھایا جانا تو سبب نہیں بنا؟
یہ بھی پڑھیے
حکومت پاکستان کا احساس راشن پروگرام

اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو اس کرہ ارض پر کسی بھی ملک کو پوری دنیا کے ساتھ کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کتا بلا، چمگادڑ، شیر، چیتا حتی کہ انسانی فیٹس (نطفہ، ماں کے پیٹ میں وجود پانے کے ابتدائی ہفتوں مہینوں بعد ختم ہونے والا بچہ) جو ملے کھا جائیں۔ اور باقی دنیا کی صحت کو خطرے میں ڈالیں۔ نیو ورلڈ ارڈر جس میں آج کی دنیا میں جمہوریت، انسانی حقوق، معاشی انصاف، ماحولیات جیسے عوامل مسلمہ ہیں، جہاں انسانی سمگلنگ بین الاقوامی جرم ہے، جہاں منشیات کا دھندہ اور کاروبارقابل سزا جرم ہے، جہاں جنگی جرائم پرعالمی عدالتیں لگتی ہیں وہاں اب وقت آ گیا ہے کہ انسانوں کے لیے خوراک کا بھی چارٹ درج ہو جانا چاہیے۔ دنیا کو کسی ایک قوم کے انواع و اقسام کے چرند پرند، جانوروں اور حشرات کو کھا پی ڈکار جانے کے چسکے کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ نئے ورلڈ آرڈر میں گوشت کی مارکیٹوں کو ریگولیٹ کیا جانا چاہیے اور جو جانور، حشرات، چرند پرند انسانوں سے دوری میں محفوظ ہیں اور انسان جن سے دوری میں محفوظ ہو، ان کو انسانی آبادیوں میں اور خاص طور پر گوشت کی مارکیٹوں میں نہ لایا جائے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
Close